پاکستانی طلبہء سیاست کا رُخ بدلنے والے عظیم دانشور۔ڈاکٹر ظفر اقبال نوری
میاں محمد اشرف عاصمی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
دُنیا کے تمام معاشروں میں انسانی آزادیوں کے حوالے سے بیداری پائی جاتی ہے
۔پاکستانی معاشرئے میں تعلیمی اداروں میں لادینی نظریات اور نام نہاد
شخصیت پرستی کے ماحول مین چند افراد ایسے ہیں جنہوں نے پاکستانی تعلیمی
ما حول کا دھارا بدل دیا۔ ایک دور تھا جب یہ فیشن چل نکلا تھا کہ ہر کوئی
دانشور بن کر مولوی کو گالی سے نوازنے اور لادینیت کو بطور ایک فیشن کے
طور پر اپنا رہا تھا۔ پاکستانی معاشرئے میں ایک طرف سرخ اور دوسری طرف
سبز کے نعرے لگائے جارہے تھے۔ اِن حالات میں کچھ مسلمان ممالک میں ہونے
والی اسلامی جہدو جہد بھی ایک نیا رنگ لیے ہوئے مختلف حلقوں کو متاثر
کرہی تھی پیٹرواسلام بھی پاکستانی معاشرئے میں مختلف طبقہ جات کے ذریعے
معاشرے میں اپنی جگہ بنا رہا تھا اِسی پیٹرواسلام نے آگے چل کے امریکی آشیر
باد سے افغانستان اور بعد میں پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ ا فغانستان
میں روس کے خلاف اور پاکستان میں امریکہ نے اِس پیٹرو اسلام کے داعی
طبقے کو استعمال کیا اب ایک عام سیدھا مسلمان اِس طبقاتی گروہ بندی کی
بجائے اسلام پسند اور نام نہاد لبرل فاشسٹ کی تقیسم میں تقسیم ہو کر رہ
گیا۔ اب ان دونوں انتہاؤں کے درمیان صرف ایک ہی سوچ تھی جس نے احسن انداز
میں پوری پاکستانی مسلم قوم کو ایک دھارے میں پرویا بلکہ نام نہاد لبرل
فا شسٹ بھی اِسی فکرِ صوفیاء سوچ کی بنا پر دین کی طرف راغب ہوئے اِس
صوفی سوچ کو تعلیمی ادروں اور پھر معاشرئے کے ہر طبقے میں نفوس پزیر کرنے
کا سہرا ، انجمن طلبہ اسلام کے سر پر ہے ۔ اِس تنظیم نے اولیاء کا ہے
فیضان پاکستان پاکستان اور غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے۔ یہ کہنے میں
راقم کو ذرا سا بھی تامل نہیں کہ وہ لوگ جو مذہب سے بیزار نظر آرہے تھے وہ
اور جو ایک خاص پیٹرواسلامک سوچ کے زیرِ اثر تھے وہ بھی اسلام کی ماڈریٹ
سوچ کی طرف راغب ہوئے اِس مشن کا بیٹرا جن اللہ پاک کے نیک بندوں نے
انجام دیا اُن میں جناب حاجی حنیف طیب ، جمیل نیعمی، یعقوب قادری ایڈووکیٹ،
احمد عبدالشکور، ڈاکٹر ظفر اقبال نوری ، قاضی عتیق الرحمان،راجہ اظہر
عباس ، عبدالرزاق ساجد،ملک نیعم شھباز، افتخار غزالیٰ،ریاض الدین نوری
غلام مر تضیٰ سعیدی، احمد وقار مدنی ، فاروق مصطفائی حمزہ مصطفائی، اسلم
الوری اور دیگر احباب شامل ہیں لیکن جب مورخ طلبہ کی سوچ کے حوالے سے
تبدیلی کے اثر کا ذکر کرئے گا تو اِس بات پر اُسے ضرور حیرت ہوگی کہ بے
سروسامانی کے عالم میں طلبہ ء کے اِس گروہ نے معاشرئے میں محبت، امن ،
بھائی چارے کے فروغ کے لیے انمٹ نقوش چھوڑے۔ اِس طلبہء تنظیم کے سفر میں
ایک ایسا بھی دور آیا جب طلبہ تنظیموں پر پابندنی تھی ملک مارشل لاء کے
زیرِ اثر تھا کہ انجمن طلبہء اسلام کو اپنا بھر پور کردار ادا کرنے کا
اللہ پاک نے موقع دیا ۔اِس ساری جہدوجہد میں اُس دور کے انجمن طلبہء اسلام
کے مرکزی صدر جناب ڈاکٹر طفر اقبال نوری جو راولپنڈی میڈیکل کالج کے طالب
علم تھے کا کردار بہت اہم رہا۔ ڈاکڑ صاحب کی شخصیت میں وہ بلا کا اثر
تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے تعلیمی اداروں میں انجمن طلبہ اسلام کی سوچ
پروان چڑ ھنے لگی کہ طلبہ سیاست میں سیاسی جماعتوں کا کوئی کردار نہیں ہونا
چاہیے اور طلبہ کی سیاست تعلیمی اداروں کے اندر تک ہونی چاہیے۔ حتیٰ کہ
تعلیمی اداروں میں پروگراموں میں سیاست دانوں کا راستہ بند ہونا چاہیے تاکہ
سیاست دان اپنی سیاست کی بھینت معصوم طلبہ کو نہ چڑھائیں تعلیمی اداروں
میں تعلیمی امن سال اور سماجی انقلاب کا یوم منا کر طلبہ ء کو امن
بھائی چارئے کا عملی ثبوت دینے کا درس دیا اور تعلیمی امن کی باز گشت بعد
میں حکومتی ایوانوں میں بھی سُنائی دی ۔جناب ڈاکٹر ظفر اقبال نوری نے ہر
طبقہ فکر کو امن محبت اور بھائی چارئے کے فرو غ لیے آمادہ کیا۔ لاکھوں طلبہ
کے دلوں کی دھڑکن ڈاکٹر ظفر اقبال نوری آج کل اسلامک فاونڈیشن آف نارتھ
امریکہ کے چئیرمین ہیں اور نبی پاک ﷺ کی محبت کے فروغ لیے کوشاں ہیں اِس
حوالے سے آپ نے متعدد کتابوں کو بھی تخلیق کیا ہے۔ ڈاکٹر ظفر اقبال نوری
کی نظام مصطفےﷺ کے عملی نفاذ اور عشقِ رسول ﷺ کے حوالے سے خدمات اسلامی
تارییخ کا وہ درخشندہ باب ہے جسے ہمیشہ سُنہری حروف میں لکھا جائے جائے
گا۔
از مرشد رومی:
عِشق آمد عقل خود آوارہ شد
شمس آمد شمع خود بیچارہ شُد
عشق آگیا تو عقل بے چاری بے کار ہوگئی سورج نکلا تو شمع کی کوئی حقیقت نہ رہی
از مرشد رومی:
عِشق آمد عقل خود آوارہ شد
شمس آمد شمع خود بیچارہ شُد
عشق آگیا تو عقل بے چاری بے کار ہوگئی سورج نکلا تو شمع کی کوئی حقیقت نہ رہی
No comments:
Post a Comment